شاہد اسماعیل پاکستان کی عالی عدالتوں کے سینئر ایڈووکیٹ ہیں۔ ان کی بنیادی مہارت دیوانی قانون، بینکاری قانون اور ملازمت و سروس کے قوانین میں ہے۔
عدالتی کام کے ساتھ ساتھ وہ کاروباری اداروں کو قانونی مشاورت فراہم کرتے ہیں اور ان قانونی اور انتظامی سوالات میں معاونت کرتے ہیں جو کسی ادارے کو روزمرہ کی بنیاد پر پیش آتے ہیں۔ یہ کام زیادہ تر مقدمہ بازی کے بجائے مشورے کی نوعیت کا ہوتا ہے، جس کا مقصد کسی معاملے کو تنازع بننے سے پہلے طے کر لینا ہوتا ہے۔
وہ بینک آف پنجاب اور بینک الفلاح لمیٹڈ کے پینل وکیل ہیں۔ اس حیثیت میں وہ ان اداروں کی جانب سے پیش کیے گئے معاملات اور لین دین سے متعلق سوالات پر قانونی رائے دیتے ہیں، جن میں انتقال جائیداد اور اس سے متعلقہ قوانین بھی شامل ہیں۔
وکالت اور قانونی مشاورت کے بدلتے تقاضوں کے ساتھ چلنے کے لیے انہوں نے وائٹ کالر کرائم، سائبر کرائم اور سائبر سیکیورٹی سے متعلق قوانین میں گہری دلچسپی لی ہے۔ یہ وہ معاملات ہیں جن کا سامنا آج کی کارپوریٹ دنیا کو بلا استثنا ہے۔
پیشہ ورانہ مہارت ان کی وکالت کا مرکزی نکتہ ہے، اور اس کے ساتھ وہ پیشے کے اصول و اقدار کی پابندی کرتے ہیں۔ ان کے بقول، قانون ایسا پیشہ ہے جس میں کامیابی کے لیے ذاتی دیانت اور لگن ضروری ہے۔